واعتصموا بحبل الله جميعا

المشاهدة

التحميل

التفريغ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ادارہ السّحاب کی جانب سے پیشِ خدمت ہے:
وحدتِ صفوفِ مجاہدین اور القاعدہ برِّ صغیر (جماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر)کے قیام کے موقع پر نشرِ خاص

یہ دستاویز تین بیانات پر مشتمل ہے:
1. برِصغیر میں القاعدہ کی نئی شاخ کا اعلان (بیان: شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ)
2. تجدیدِ بیعتـاور مقاصدِ جماعتـ (بیان: استاد اسامہ محمودحفظہ اللہ، ترجمان، جماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر)
3. طریقنا القتال (بیان: مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ، امیر جماعت قاعدۃ الجہاد، برصغیر)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

برِّصغیر میں القاعدۃ کی نئی شاخ کا اعلان
بیان: شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ

بسم الله والحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وآله وصحبه ومن والاه
پوری دنیا میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیوں کے نام، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اما بعد:
میں تمام امت ِ مسلمہ اور بالخصوص مسلمانانِ برصغیر کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے جماعت قاعدۃ الجہاد کی ایک نئی شاخ،’جماعت قاعدۃ الجہاد برِ صغیر‘ کے قیام کی خوشخبری دیتا ہوں۔یہ قدم پرچمِ اسلام کی سر بلندی،اسلامی حکومت کے دوبارہ قیام اور سرزمینِ برِ صغیر میں شریعتِ اسلامی کی حاکمیت کی ایک کوشش ہے، جو کبھی دیارِ اسلام کا ایک حصہ تھی،لیکن پھر کافر وں نے اس پر قبضہ کر کے اسےچھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا۔ یہ جماعت ایک دن میں ہی وجود میں نہ آگئی،بلکہ یہ برِ صغیر سے تعلق رکھنے والے مختلف جہادی مجموعات کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کی اُن مبارک کوششوں کا ایک ثمر ہے جن کا سلسلہ کم و بیش دو سال سے جاری تھا۔یہ جماعت مرکزی جماعت قاعدۃ الجہاد کے تحت کام کرے گی، جو امارتِ اسلامیہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، جس کے امیر، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو فتح یاب فرمائیں۔ یہ جماعت شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی اس عالمگیر دعوت کی علمبردار ہے جس کا ہدف امت مسلمہ کو کلمۂ توحید کی بنیاد پر اپنے دشمن کے خلاف جہاد،امت کی مقبوضہ سرزمینوں کی آزادی،اس کی حکمرانی اور قیادت کے دوبارہ حصول اور خلافت اسلامیہ کے احیاء جیسے مقاصد کے لیے اکٹھا کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اُن گمنام سپاہیوں کو بے حساب اجر سے نوازے جنہوں نے صبر اور خود فراموشی کے ساتھ اس عظیم مقصد کی خاطر خود کو کھپائے رکھا، یہاں تک کہ یہ مبارک جماعت وجود میں آسکی۔
اللہ تعالیٰ جہادی مجموعات کے امراء کو بھی ڈھیروں اجر سے نوازے جنہوں نے بے پناہ تواضع اورانکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اسلام اور اہلِ اسلام کی مصلحت کو فوقیت دینے کی اعلیٰ مثال قائم کی، جس کے نتیجے میں یہ جماعت وجود میں آئی جو ان شاء اللہ،برِ صغیر میں اسلام دشمن قوتوں کے خلاف فریضۂ جہاد کے احیاء کا سبب بنے گی۔ القاعدہ کی اس شاخ کا قیام سب مسلمانوں کے لیے خوشخبری ہے،کہ پوری دنیا میں اس وقت امارتِ اسلامیہ افغانستان کے جھنڈے تلے دعوتِ جہاد مسلسل پھیلاؤ اور وسعت کی منزلیں طے کر رہی ہے۔یہ وہ امارتِ اسلامیہ ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف سخت ترین حملے کے مقابل،صبر و ثبات کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کیں جو تا ابد مینارۂ نور بن کر آنے والی نسلوں کو راہ دکھلاتی رہیں گی۔یہ امارت اپنے ایمان ویقین اورصبروفداکاری کی بنیاد پر ثابت قدم رہی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فتح و نصرت سے ہم کنار فرمایا اور ان دشمنوں پر غلبہ عطا فرمایا،جو تاریخ انسانی کی سب سے عظیم قوت ہونے کے بلند بانگ دعوے لیے میدان میں اترے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کے ان ایمان افروز کلمات کو حقیقت کا روپ دھارے دیکھ سکتے ہیں،جو آپ نے صلیبی حملے کے بالکل آغاز میں فرمائے تھے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے ہم سے فتح کا وعدہ کیا ہے جبکہ بش نے ہزیمت کا۔۔۔ جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون سا وعدہ سچا ہے؟‘‘
میرے مسلمان بھائیو! بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو متحد رکھیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔اور اللہ تعالیٰ نے اس اتحاد و یگانگت کو اپنی سب سے بڑی نعمت کے طور پر بیان فرما یا ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ(103)] (آل عمران)
اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا۔ اوراللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
[وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ (62) وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (63)](الأنفال)
اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو اللہ تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔ اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے۔ مگر اللہ ہی نے ان میں اُلفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔
چنانچہ وحدت، نعمت و رحمت کا سبب ہے۔۔۔ جبکہ اختلاف، نحوست و عذاب کا۔مومنین پر نرمی اور کا فروں پر سختی اللہ کے اُن نیک بندوں کی صفات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔
[مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (29)] (الفتح)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔ (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور کھیتی والوں کو خوش کرنے لگی، تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اللہ نے ان سے گناہوں کی بخشش اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔
اسی طرح اللہ جل شانہ نے فرمایا:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ(54)] (المائدة)
اے ایمان والو! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور جو اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ اور جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔
اختلاف اور ناچاقی کی ایک سزا ناکامی اور قوت کا ختم ہو جانا بھی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (45) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ(46)] (الانفال)
مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو۔ کہ اللہ صبر کرنے والوں کا مددگار ہے۔
سو اے مجاہد بھائیو! اتفاق و اتحاد کی جانب بڑھیے! اور باہمی اختلاف اورجھگڑوں کو پسِ پشت ڈال کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیجیے اور تفر قہ بازی سے دور رہیے!
یہ جماعت اسی لیے قائم ہوئی ہے تاکہ یہ پوری دنیا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ متحد ہو کرقابض انگریزوں کی کھینچی ہوئی اُن لکیروں کو مٹا ڈالے جو انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان فرق ڈالنے کے لیے کھینچی تھیں۔لہٰذا اہلِ برصغیر کے لیے اس جماعت کی بنیادی دعوت بھی یہی ہے کہ وہ کلمۂ توحید کی بنیاد پر متحد ہوجائیں اور انبیاء و رسل اور اللہ کے نیک بندوں کے اختیار کردہ دعوت و جہاد کے رستے پر چلتے ہوئے نصرت ِ اسلام کا فریضہ ادا کریں۔
برصغیر اور ساری دنیا میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!اب تک آپ کے سامنے لادین جمہوریت کےطریقے کی ناکامی بالکل عیاں ہو چکی ہوگی جس کی بنیادی دعوت یہ ہے کہ اکثریت کی رائے کی بنا پر فیصلے کیے جائیں اور حاکمیت ِ اسلام کے ایسے عقیدے سے دستبرداری اختیار کر لی جائے، جس کے بغیر ایمان ہی قابلِ قبول نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(65)] (النساء)
تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ تب تک مومن نہیں ہوں گے جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں۔
وقت نے ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ رستہ ایک پر فریب سراب سے زیادہ اور کچھ نہیں جس کے ذریعے اسلام کی حاکمیت قائم ہو جانا اصلاً محال ہے چاہے اس کا نام لینے والے الیکشن میں کامیابی اور پارلیمنٹ میں اکثریت بھی کیوں نہ حاصل کر لیں تب بھی عین وقت پر دشمنان ِ اسلام کی فوجیں آگے بڑھیں گی اور اپنی مخالف ہر طرح کی قوت کو جیلوں اور پھانسی گھاٹ تک پہنچا کر چھوڑیں گی۔یہ راستہ دنیا و آخرت دونوں کے خسارے کا راستہ ہے جو حاکمیتِ شریعت کے عقیدے سے دستبرداری سے شروع ہوتا ہے اور بالآخر شریعت کے دشمنوں کے تسلط اور قیامِ شریعت کی امید کے قتل پر ختم ہوتا ہے۔ حق و عدل کے قیام اور نتائج کی امید اگر کسی سے وابستہ کی جاسکتی ہے تو وہ اس رستے سے کی جاسکتی ہے جو ہمارے مولیٰ عزوجل نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے،یعنی دعوت و جہاد کا رستہ۔
[وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ (49) أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ(50)] (المائدة)
اور (ہم تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) اللہ نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔ کیا یہ (زمانہ )جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ حالاں کہ جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟
اور فرمایا:
[وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ(۳۹)] (الأنفال)
اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کا ہو جائے۔
چنانچہ جب دین کا کچھ حصہ تو اللہ کے لیے ہو اور کچھ اللہ کے غیر کے لیے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کُل کا کُل اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔اور اگر کبھی قوت کی عدم دستیابی کے سبب جہاد ممکن نہ ہو تب بھی اعداد کا فرض ساقط نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ(۶۰)] (الأنفال)
’’اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے، ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے، مگر اللہ جانتا ہے، ہیبت بیٹھی رہے گی۔۔۔‘‘
یہ نئی جماعت برصغیر کے مختلف علاقوں میں بسنے والے بے آسرا اور کمزور لوگوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہے۔برما،بنگلہ دیش،آسام،گجرات،احمد آباد اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ القاعدہ میں آپ کے بھائی آپ کو ہر گز نہیں بھولے! اور وہ آپ کو ظلم و جبر اور مصائب کی اس چکی سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن طریقے سے کوشاں ہیں۔
برِ صغیر میں بسنے والی ہماری محبوب امتِ مسلمہ!
آئیے اور اپنی رائے،مشورے،سامانِ رسد،اور دعا جیسے اسباب سے اپنے مجاہد بھائیوں کی پشتی بانی کرتے ہوئے، جہاد فی سبیل اللہ کے اس مبارک قافلے میں شامل ہوجائیے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر لبیک کہیے جس میں اس نے فرمایا:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (10) تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (11) يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (12) وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ(13)] (الصف)
’’مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں، جو تمہیں عذاب الیم سے چھٹکارا دلا دے۔ (وہ یہ کہ) اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں، جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو ہمیشہ کی جنتوں میں (تیار) ہیں داخل کرے گا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) اللہ کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور (عن) قریب فتح ہوگی اور مومنو ں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو۔‘‘
میں ٍاپنی گفتگو کا اختتام اپنے لیے،جماعت قاعدۃ الجہاد برِ صغیر میں اپنے بھائیوں کے لیے اور تمام دنیا کے مجاہدین کے لیے اس نصیحت پر کرنا چاہوں گا کہ جان رکھیے!جہاد فی سبیل اللہ دراصل دعوت الی اللہ کا ایک وسیلہ ہے جو کہ انبیاء علیہم السلام کے مقصدِ بعثت کا اہم ترین جزو ہے۔حق جل شانہ نے فرمایا:
[يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (45) وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا (46)] (الأحزاب)
’’اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:
[وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (4)] (القلم)
اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:
[فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (159)] (آل عمران)
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کی مہربانی سے تمہارا مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوا ہے، اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کر دو اور ان کے لئے (اللہ سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بیشک اللہ بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
لہٰذا قول و عمل دونوں میں سچ کو اپنا شیوہ بنائیے۔ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیے گا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (3)] (الصف)
مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے۔ اللہ اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔
چنانچہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے جہاد کا مقصد مسلمانوں کی حُرمت کا تحفظ ہے تو پھر ان کی جان، مال اور آبرو پر ہاتھ ہرگز نہ ڈالیے۔بلکہ خود اپنے مجاہد بھائیوں پر بھی اپنے قول و فعل سے کسی زیادتی کا ارتکاب نہ کیجیے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے جہاد کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ،شریعت کی حاکمیت اور اس کی بالادستی کو زمین پر قائم کرنا ہے تو پھر آپ کے لیے لازم ہے کہ اس شریعت کو سب سے پہلے خود اپنے اوپر نافذ کریں۔ اور اگر فیصلہ خود آپ کے اپنے خلاف بھی کیوں نہ جاتا ہو تب بھی شریعت کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے گریز نہ کیجیے گا۔اور اگر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے جہاد کی غایت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہے تو پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ موقع پاتے ہی آپ کرسی اور اقتدار کی دوڑ میں شامل ہو جائیں۔اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے جہاد کے مقاصد میں سے ایک مظلومین کی نصرت ہے تو پھر خود اپنے مابین ظلم سے بھی مکمل گریز کیجیے۔اسی طرح اپنے علاوہ دیگر مجاہدین اور مسلمانوں پر بھی ظلم سے مکمل پرہیز کیجیے۔اور ہاں، گناہوں سے تو سراسر دور رہیے! اپنے رب سے استغفار کرتے رہیے اور فوراً توبہ کرنے والے بنیے! اگر خطا ہوجائے تو اسے تسلیم کرلیجیے اور اگر کوئی ظلم ہو جائے تو اس کا بدلہ چکائیے!کیونکہ یہ گناہ ہی ہیں جو شکست کی تمہید بنتے ہیں۔غور سے سنیے کہ اللہ تعالیٰ نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کیا فرمایا:
[أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (165)] (آل عمران)
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی، تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی، حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑ چکی ہے۔ کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامتِ اعمال ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور فرمایا:
[إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ (155)] (آل عمران)
جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے، تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر اللہ نے ان کا قصور معاف کر دیا بیشک اللہ بخشنے والا (اور) بردبار ہے۔
اور جان رکھیے! کہ کبھی اپنی قوت اور طاقت کی بنیاد پر کسی دھوکے میں نہ مبتلا ہوجائیے اور اپنی قوت پر انحصار کو چھوڑ کر اللہ رب العزت کی قوت اور طاقت کی پناہ اپنا لیجیے! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو غور سے سنیے!
[إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (160)] (آل عمران)
اگر اللہ تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسا رکھیں۔
اور فرمایا:
[وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (10)] (الأنفال)
اور مدد کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے۔
اسی طرح فرمایا:
[وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25)](التوبة)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی کثرت پر غرّہ تھا، مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود اپنی ساری وسعتوں کے، تم پر تنگ ہو گئی۔ پھر تم نے پیٹھ پھیر کر میدان سے رخ موڑ لیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی کبھی فراموش نہ کیجیے، جس میں اس نےکامیابی کے اسباب بیان فرمائے:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (45) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (46) وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (47)] (الأنفال)
اے ایمان والو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور صبر سے کام لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کا مددگار ہے۔ اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکلے تھے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور اللہ نے ان کے سارے اعمال کو احاطے میں لیا ہوا ہے۔
چنانچہ اگر ہمیں ان امور کی توفیق نصیب ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے اذن سے یہ یقین رکھیے کہ آپ فتح و نصرت کے اس رستے پر گامزن ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم بشارت کے حق دار ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ خوشخبری دی کہ:
’’عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم عليه السلام‘‘
’’میری امت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچا لیا ہے،ایک وہ گروہ جو ہند میں جنگ کرے گا اور دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ مل کر لڑے گا۔‘‘
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين وصلى الله على سيدنا محمد و آله وصحبه وسلم
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجدیدِ بیعتـ اور مقاصدِ جماعتـ
بیان: استاد اسا مہ محمود حفظہ اللہ، ترجمان (جماعت قاعدۃ الجہاد، برصغیر)

الحمد لله رب العالمين ناصرِ المستضعفین والصلاة والسلامُ علی إمام المجاهدین سیدِنا محمد و آله وصحب وسلّم اجمعین،
أما بعد:
قال الله تعالى: بعد أعوذُ بالله من الشيطان الرجيم: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آَيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [آل عمران: 103]
وقال الله تعالی: هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [الأنفال: 62 – 64]
وقال عزوجل: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفّاً كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ [ الصف: 4]
عزیز مسلمان بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ہم تمام امتِ مسلمہ کو بالعموم اور پاکستان وہندوستان سمیت برصغیر کے مسلمانوں کوبالخصوص جَماعت قاعدۃ الجہاد کی ایک نئی شاخ ’’جَماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر‘‘کے قیام کی مبارک باد دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ اس جماعت کو کتاب و سنت کے مطابق اعلائے کلمۃ اللہ کی توفیق عطا فرمائیں۔
یہ جماعت ایسے متعدد جہادی مجموعات کے متحد ہونے سے وجود میں آئی،جو ایک طویل عرصے سے جہاد وقتال میں مصروف تھے اور جنہوں نےاتحادواتفاق اختیار کرنے کے الٰہی حکم، و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا پر لبیک کہا،اور اپنے محبوب امیر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی ہدایات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ کی قیادت تلے جمع ہونے کا مبارک فیصلہ کیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شیخ مصطفی ابویزید،شیخ عطیۃ اللہ،شیخ ابویحییٰ، استاد حسن گل،کماندان بدر منصور، استاد فیض عمر اقدس رحمہم اللہ اور اُن تمام دیگر حضرات کو ڈھیروں اجر سے نوازیں، جن کی محنت، اخلاص اور قربانیوں سے یہ وحدت انجام پائی، اور جن کی توجہ اور رہنمائی سے جماعت قاعدۃ ُالجہاد برصغیر کی فکری اور عملی بنیادیں رکھی گئیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس جماعت کو اُس مبارک رستے پر استقامت سے چلنے کی توفیق دیں، جس کے خدو خال مجدِّدِ جہاد شیخ عبد اللہ عزام رحمہ اللہ اور محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے اپنے لہو سے واضح کیے، آمین!
اسی طرح ہم اس موقع پر اپنے شہید قائدین کو بھی اپنی بھرپور دعاؤں میں یاد کریں گے، جن کی تربیتِ بابرکت کے سائے میں اس خطے میں یہ موجودہ شجرِ جہاد پروان چڑھا، جن میں سرِ فہرست استاد امجد فاروقی، کماندان اور استاد الیاس کشمیری، استاد ہارون (استاد عدنان بھائی )، کماندان عبد الہادی فیصل، شیخ احسن عز یز اور ڈاکٹر ارشد وحید رحمھم اللہ ہیں۔
اور اس خوشی کے موقع پر ہمارے دل اپنے شہداء اور اسیر ساتھیوں کو بھی اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد کر رہے ہیں، جن کے خون اور قربانیوں کی برکت سے اس خطے میں آفتابِِ جہاد اپنے پورے آب و تاب سے جگمگا رہا ہے۔ یا اللہ! آپ ان سب سے راضی ہوجائیے۔ یا اللہ! ہمارے قیدی ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے، ہمارے ہاتھ سے رہائی دلا دیجیے، اور ہمارے شہداء کو اپنی جنتوں میں انبیاء، صدیقین، شہداء و صالحین کا ساتھ عطا فرما دیجئے۔
جَماعت قاعدۃُ الجہاد برصغیر کے چند اساسی مقاصد یہ ہیں:
• مقصد اول۔۔۔امریکہ اور اس کی سرپرستی میں قائم عالمی نظامِ کفر کے خلاف جہاد کرنا، اس نظام کوجڑسے اکھاڑ پھینکنے کی سعی کرنااورنظام کفرکے اس صنم کدےمیں کلمہ توحیدکوبلندکرنا، کیونکہ یہ ظالمانہ نظام ہی ہے جس کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ توڑ کراللہ کی زمین سے اللہ کی حاکمیت ختم کی گئی اور قبلہ ِاوّل پریہودیوں کاقبضہ ممکن ہوا، سرزمینِ حرمین پر امریکی اور ان کے آلہء کار مسلط ہوئے، بوسنیا اور شیشان سے لے کر کشمیر اور برما تک مسلم سرزمینوں پر کفار کا قبضہ مستحکم ہوا، سرمایہ دارانہ سودی کاروبارنظام معیشت ٹھہرا، سیکولر جمہوری اصولوں پر مبنی نظامِ سیاست رائج ہوا،معاشرے سے اسلامی عقائد اور دینی معاشرت مٹتی چلی گئی اوریہ اس نظام ہی کانتیجہ ہے کہ مسلم خطوں پر کفارکی آلہ کارمرتد افواج اور دین دشمن حکمرانوں کی اَجارہ داری مستحکم ہوئی۔
• مقصد ثانی۔۔۔نفاذ شریعت اور اسلامی طرز زندگی کے احیاء کے لئے سعی کرنا اور اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنا جس کی طرف کتاب و سنت نے رہنمائی کی ہے،جن میں سرِ فہرست قتال فی سبیل اللہ ہے۔
• مقصد ثالث۔۔۔تمام مقبوضہ اسلامی سرزمینوں کی بازیابی اور بالخصوص برصغیر کی مظلوم مسلم اقوام کو آزادی دلانے کے لئے امتِ محمدیہ ﷺ کو بیدار کرنا، اس مقصدکے حصول لئے سر دھڑ کی بازی لگانااور کسی ایسے قانون اور معاہدے کورتی برابر حیثیت نہ دینا جو مسلمانوں سے آزادی کا حق چھینتا ہو اورانہیں فریضٔہ جہاد کی ادائیگی سےروکتا ہو۔
• مقصد رابع۔۔۔ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے جہاد کرنا۔۔۔ ایسی خلافت جس کے تحت ساری امت جمع ہو، جہاں مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو،جہاں خلیفۂ وقت بھی علماء حق کی قربت کی تمنا کرتا ہو اور ان سے رہنمائی لے کر چلتا ہو، جہاں کمزور او رطاقتور، کوئی بھی احتساب سے بالا نہ ہو۔جس کی برکت سے مسلمان کسانوں کی زمینیں سونا اگلتی ہوں، مسلمان تاجر سودی شکنجوں اور ظالمانہ ٹیکسوں سے آزاد ہو کر اپنی تجارت کو فروغ دے سکتے ہوں، اورجہاں غریبوں اور مزدوروں کی محبت میں خلیفہ وقت بھی راتوں کو گشت کرتا ہو، حتیٰ کہ خلافت کی امان میں آجانے والا ذمی کافر بھی امن کے ساتھ زندگی گزارسکتا ہو۔
• مقصد خامس۔۔۔امارتِ اسلامیہ افغانستان کا دفاع کرنا۔۔۔ جو کہ پوری امت کی سطح پر احیائے خلافت کی امید، نوید، اور تمہید ہے، اس کی طرف آنے والے تیروں کو اپنے سینوں پر روکنا، اس کی تقویت و مضبوطی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا اور تمام میسر وسائل سے اس کی نصرت کرنا۔
• مقصد سادس۔۔۔ایسا اسلامی معاشرہ قائم کرنا جہاں ظالم کا ہاتھ روک کر مظلوم کی مدد کی جاتی ہو،چاہے مظلوم کافرہی کیوں نہ ہو۔۔۔ ایسا معاشرہ، جہاں نیکیاں کرنا آسان اور منکرات کا ارتکاب مشکل ہو جائے۔۔۔ ایسا معاشرہ، جہاں عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا جائے،جہاں اولاد والدین کی راہوں میں پلکیں بچھائےاورجہاں گھروں میں سکون ہو۔
ہماری محبوب امت کے مظلوم مسلمانو! مجاہدین کامقصدہے کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کران کے رب کی بندگی میں داخل کریں اور دیگرمذاہب اور نظاموں کے جبر،گھٹن اور ظلم میں پستی انسانیت کو اسلام کی رحمتوں اور برکتوں کی طرف نکال لائیں۔ یہ دعوت ادائیگیٔ فرض کی دعوت ہے، ایسی دعوت جومسلکی و فروعی اختلافات کوبالائےطاق رکھ کر جہادکی طرف بلاتی ہے۔ اس دعوت پرلبیک کہنا اور اس جہاد میں شریک ہونا نہ صرف آپ کے دنیاوی سکون اور عزت والی زندگی کاضامن ہے بلکہ اللہ کی طرف سے کامیاب مستقبل یعنی موت کے بعد ربّ کی جنتوں کی بھی نویدہے۔ ارشادِ ربِ کریم ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ [الانفال: 24]
’’ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہو، جب رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائیں جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان رکھو! کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے۔اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔‘‘
____اس موقع پر ’جماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر‘ کے مجاہدین امیرِ محترم شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے ہاتھ پر بیعتِ جہاد کی تجدیدکرتے ہیں اور ان کے ذریعے امیرالمؤمنین ملامحمدعمر مجاہد نصرہ اللہ کے ہاتھ پر اپنی بیعت کو بھی پھر سے تازہ کرتے ہیں، اور امیر المؤمنین کویہ یقین دہانی بھی کراتے ہیں کہ امارت اسلامی افغانستان کادفاع ہم اپنااولین فرض سمجھتے ہیں اوران شاء اللہ آپ ہمیں اس کی حفاظت وتقویت کے لئے کسی قربانی سے گریز کرنے والا نہیں پائیں گے۔
____اسی مناسبت سےدنیاکے دوسرے خطوں میں برسر پیکار مجاہدین، اور بالخصوص جماعت قاعدۃ الجہاد کی دیگر شاخوں سے تعلق رکھنے والے، اللہ کے شیروں کے نام ہمارا یہ پیغام ہے کہ اے ہمارے محبوب مجاہد بھائیو! القاعدۃ، برصغیر میں آپ کے بھائی احیائے خلافت اور ارضِ مقدس کی آزادی کی طرف گامزن اس مبارک سفرمیں آپ کے ساتھ یک جان، دوقالِب ہیں۔ آپ ہمارے جسم کاحصہ ہیں، ہم اللہ کے لئے آپ سے محبت رکھتے ہیں،ہماری سب دعائیں آپ کے ساتھ ہیں،آپ کی فتح ہماری فتح ہے اور آپ کی آزمائش، ہمارے لیے دکھ کا باعث ہے۔ ہمیں امیدہے کہ آپ اپنی دعاؤوں،نصائح اور مشوروں سے ضرور ہماری رہنمائی اور مدد و نصرت فرمائیں گے۔اللہ آپ کی نصرت فرمائیں۔
____ اس موقع پر ہم اپنے محترم علمائے کرام اور داعیانِ دین کو بھی یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ ہی کے فرزند اورآپ ہی کے شاگرد ہیں، جس قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں دلوں میں اتارنے کے لیے آپ دن رات محنت کرتے ہیں اسی قال اللہ اوراسی قال الرسول کو سیاست، عدالت، معیشت اور معاشرت کے میدانوں میں نافذ کرنے کے لیے ہم جہاد کرتے ہیں۔ ہم آپ کے دفاع اور حفاظت کو اپنا فرض جانتے ہیں، آپ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور معاشرے پر علومِ شرعیہ کی سیادت کی بحالی کو مطلوبہ اسلامی تبدیلی کا بنیادی زینہ خیال کرتے ہیں۔ ہم آپ کی رہنمائی کے محتاج ہیں،قافلہ جہاد میں عملی شرکت کے منتظراور آپ کی نصرت اور دعاؤں کے طالب بھی!
____ اس موقع پرہم پاکستان میں برسر پیکار اپنے مجاہد بھائیوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں، کہ شہدائے لال مسجد کی عظیم قربانی کے بعد محسن امت شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے حکم پر ’’شریعت یا شہادت ‘‘ کا شعار لے کر جس قتال میں ہم اترے تھے، ہم اس کو پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مبارک جہاد مسلمانانِ برصغیر کے نعرے ’’پاکستان کا مطلب کیا،لا الہ الا اللہ‘‘ کو عملی جامہ پہنانے کا اصل راستہ، غزوہ ہند کا دروازہ، اور امارتِ اسلامی افغانستان کادفاع ہے۔
____ یہاں ہم اس خطے میں موجود دیگر جہادی تحریکات کی طرف بھی نیک نیتی اور تعاون علی الخیر کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اورانہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہماراتعلق محبت واخوت اور نیکی کے کاموں میں باہمی تعاون ونصرت پرمبنی ہوگا اوراللہ سے قوی امیدہے کہ جَماعت قاعدۃ الجہادبرصغیر کاوجود آپ کے لئے خیراورتقویت کاسبب ہوگا،ان شاء اللہ۔
یااللہ! ہماری قوم کو اسلام کی بہاریں دکھلادیں،اس خطے کوشریعت کی ٹھنڈی چھاؤں اور امن سے نواز دیں۔ یارب!دین کی سربلندی،امت کی راحت اور مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے جوبندے میدان جہاد میں ہیں،اللہ ان کی کمزوریوں کی اصلاح فرما دیں،ہدایت پر انھیں قائم رکھیں اور ان کی نصرت فرمائیں۔ یاالہٰی! جولوگ آپ کی شریعت کو معطل کرکے اس سرزمین کو لادینیت اور ظلم وفساد سے بھرنے کے درپے ہیں، انہیں اپنے مجاہدبندوں کے ہاتھوں مغلوب فرما دیں۔آمین ثم آمین۔
رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقه محمد آله واصحابه اجمعین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طریقنا القتال
بیان: مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ (امیرِ جماعت قاعدۃ الجہاد، برصغیر)

الحمد لله وحده الذي فضل المسلمين على العالمين بفرض عبادة القتال على أمة حبيبه صلى الله عليه وسلم الذي بعث رحمة للعالمين بأربعة سيوف لرفع كلمة الإسلام وتشييدها وتهوين كلمة الكفر وتوهينها. ونشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له في الخلق والأمر, ونشهد أن سيدنا ونبينا محمدا عبده ورسوله المبعوث بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله, وعلى آله وأصحابه رهبان الليل وفرسان النهار. أما بعد فيقول الله عز وجال في محكم التنزيل:
فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا
وعَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي.
سب سے پہلے، ہم اپنی پیاری امت کو جماعت قاعدۃُ الجہاد برصغیر کے قیام کی مبارک باد دیتے ہیں اور ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ یہ خبر مسلمانوں کے دلوں کو فرحت و سرور سے بھر دے اور کفار و مرتدین کے دلوں کو غیظ و غضب میں جلانے کی علامت بن جائے۔
ہم اس موقع پر جماعت قاعدۃ الجہاد کے امیر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی تجدید کرتے ہیں،اور آپ کے توسط سے امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کی بیعت کی بھی تجدید کرتے ہیں کہ ہم ہر معروف میں سمع و طاعت کرینگے،مسلمانوں کے رازوں کی حفاظت کرینگے اور خلافت کے قیام کے لئے قتال فی سبیل اللہ کے اس مبارک عمل کو جاری رکھیں گے، جس کو ہمارے رب نے ہمارے پیارے نبی ﷺ پر فرض فرمایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
{فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ تُكَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَاللّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنكِيلاً } (النساء : ۸۴)
اے نبی ﷺآپ اللہ کے راستے میں قتال کیجئے۔ آپ تو بس اپنے ہی ذمہ دارہیں۔کوئی جہاد میں نکلے یا نہ نکلے،آپ جہاد میں جائیے۔۔۔جہاد کو جاری رکھئے، اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا : وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ، اور اہلِ ایمان کو قتال پر ابھارتے رہیے۔جہاد کی دعوت دیتے رہئے۔۔۔ لیکن کوئی جائے یانہ جائے کوئی نکلے یا نہ نکلے آپ اپنی ہی ذات کے مکلف ہیں۔ خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃنہ دینے والوں سے قتال کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: لو خالفتني يميني لجاهدت بشمالي، ان سے قتال میں کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دےمیں ان سے قتال کروں گا،تنِ تنہا قتال کروں گا یہاں تک کہ میرے وجود کا آدھا حصہ بھی میرے ساتھ اس قتال میں شریک ہونے سے انکار کردے میں پھر بھی ان سے قتا ل کرونگا، جو شریعت کے ایک حکم کی ادائیگی سے بھی انکا رکریں میں ان سے قتال کروں گا۔فرمایا : لو خالفتني يميني لجاهدت بشمالی اگر میرا داہنا ہاتھ بھی میری مخالفت کرے،قتال میں میرا ساتھ چھوڑ دے میں پھر بھی قتال کروں گا!
اس کے بعد، تاریخ اسلام شاہد ہے اس امت کے علماء دیوانہ وار جہاد کی دعوت دیتے رہے،اور پھر جتنی تعداد نے بھی لبیک کہا انہی کو لے کر اللہ کے دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ سو، سوال یہ ہے کہ تنِ تنہا یا بے سروسامانی کے عالم میں نکلنے سے کفر کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے،کفر کو شکست کیسے دی جاسکتی ہے؟ اللہ خود ہی اسی آیت میں جواب دیتا ہے : عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا، اللہ کافرو ں کی جنگ کا زور توڑ دے گا،تمہارے اس بے سروسامانی کے عالم میں نکلنے کا یہ اثر ہوگا کہ اللہ ان کافروں کی جدیدٹیکنالوجی پر رعب طاری کردے گا۔ان کی فوج باقی ہوگی، ان کی قوت باقی ہوگی،ان کے ڈرون رات دن تمہارے سروں پر منڈلاتے ہونگے،ان کے بحری بیڑے موجود ہونگے، لیکن اگر تم میرے بھروسے پر، میرے حکم کو پورا کرتے ہوئے قتال کروگے تو اللہ اس سب کے باوجود انکے لڑنے کے عزم کو توڑ دے گا، ان پر خوف طاری کردے گا۔بس شرط یہ ہے کہ اس قتا ل کو کسی حال میں نہ چھوڑنا۔انفرو خفافا ًوثقالا ً، ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکلنا، اس قتال کے راستے میں نکلنا، یہ قتال کرتے رہنا، اللہ روس جیسی سپر پاور کا غرورخاک میں ملائے گا، پھر دنیا کا خدا بن جانے والا امریکہ ایسا ذلیل ہوگا کہ امریکہ کی عبادت کرنے والے بھی اس کی خدائی میں شک کرنے لگیں گے۔بس تم قتال کے عمل کو جاری رکھنا، پھر دنیا کی سیاست اُلٹ جائے گی، طاقت کےمحور بدل جائیں گے، دوستی و دشمنی کے معیار تبدیل ہوجائیں گے، دنیا کے نقشے پلٹ جائیں گے، اقوامِ متحد ہ کی لکیریں قتال کی ضربوں سے مٹادی جائیں گی، طاقت کے نشے میں چُور پیش قدمی کرتی کفریہ طاقتیں میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوجائیں گی۔اور جان رکھو۔۔۔اے ایمان والوجان رکھو۔۔۔! اللہ کا یہ وعدہ قیامت تک ہے۔ جی ہاں، چودہ سو سال بعد بھی اللہ کا یہ وعدہ ترو تازہ ہے کہ قتال کرو گے تو اللہ اس کے ذریعے سے کفر کو شکست عطا فرمائے گا۔۔۔!
جو چاہے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے، اللہ نے اس قتال کے عمل میں کیسی قوت رکھی ہے! ہم سے افغانستان چھیننے کا خواب دیکھنے والا امریکہ آج کھلی آنکھوں کتنے افغانستان بنتے دیکھ رہا ہے۔کل تک اپنی آمد کی دھمکی سے ڈرانے والا فرعون آج ہمارے بلانے کے باوجود بھی صومالیہ، یمن اور شام میں آنے سے خوف کھارہا ہے۔ اے میری امت کے نوجوانو! آنکھیں کھول کر دیکھو! اسلام کے عروج کا دور شروع ہوچکا، دنیا کے نقشے اور ان کی قوتیں تبدیل ہورہی ہیں، صفیں اور لشکر بہت واضح انداز میں تقسیم ہور ہے ہیں۔ پہاڑوں میں مجاہدین موجود ہیں، سمندروں میں انکی یلغار ہے، فضائیں توحید کے نعروں سے گونج رہی ہیں۔ ذرا دنیا کا نقشہ اٹھاکر تو دیکھئے! افغانستان میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ کی عظیم الشان فتح سے نوازا ہے۔ خلیجِ عدن جو کہ نہر ِسویز میں مغربی ملکوں کے داخلے کا راستہ ہے وہاں یمن کے مجاہدین علم و حکمت کےساتھ قتال کے میدان سجائے ہوئے ہیں۔دوسری جانب اسی بحری گزر گاہ پر صومالیائی مجاہدین کی یلغار جاری ہے پھر بحرِ متوسط(میڈی ٹیرینین)میں مصر،لیبیا الجزائر،تیونس،تک دیکھئے ان سب جگہوں پر مجاہدین غلبے کی حالت میں ہیں اورتیونس کے ساحل سے اٹلی کے ساحل کا فاصلہ کچھ اتنا زیادہ بھی نہیں صرف ڈیڑھ سو کلومیٹر ہے!
اللہ نے قتال کو اس امت پر اسی لئے فرض فرمایا کہ اس کے ذریعے سے کفر کا غلبہ توڑا جائے اور خلافت قائم کی جائے۔ اللہ کا دین نافذ کیا جائے۔سارا کا سارا دین،سارا کا سارا نظام اللہ والا بنا دیا جائے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی کتاب میں اعلان فرمایا :
{وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّه فَإِنِ انتَهَوْاْ فَإِنَّ اللّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ } (الأنفال: 39)
ان سے قتال کیجئے صرف ایک سال کے لئے نہیں، صرف دو سال یا چند سال کے لئے نہیں بلکہ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، کفر اور تمام غیر اسلامی نظاموں کا غلبہ ٹوٹ جائے اور شریعت مکمل نافذ ہوجائے۔ اللہ نے فرمایا وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سارا کا سار نظام اللہ کا، یعنی اس کی مرضی کے مطابق ہوجائے، اللہ والا ہو جائے، قرآن والا ہوجائے،ایسا بھی ہمیں منظور نہیں کہ کچھ اسلامی اور کچھ کفریہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، سارا کا سارا نظام، سو فیصد نظام اللہ والا ہو جائے، قرآن والا ہو جائے۔۔۔
لہٰذا جان لینا چاہئے! کہ ہم اور دنیا کا ایک ایک مجاہد اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اس دنیا سے کفر کا غلبہ اور اس کی قوت ٹوٹ نہ جائے اور اللہ کا قرآن نافذ نہ ہوجائے، اس لئے کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو یہ قرآ ن دے کر بھیجا ہی اس لئے ہے کہ تمام نظاموں کو مٹاکر اس قرآن کے نظام کو دنیا میں نافذکردیا جائے۔
{هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ } (الصف: 9 )
یہ کتاب دے کر، یہ ہدایت دے کر، میرے آقا کو اس لیے بھیجا گیا کہ قرآن کا نظام غالب ہو گا، قرآن سب سے اوپر رہے گا، اس کی حاکمیت قائم رہے گی۔ اس کو اس لیے دے کر نہیں بھیجا کہ اس کے مقابلے میں انگریز کا نظام اوپر رہے گا، ہندو کا نظام اوپر رہے گا، پارلیمنٹ کا نظام اوپر رہے گا۔ نہیں نہیں۔۔۔ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، میرے رب کا نظام قائم رہے گا، میرے رب کا نظام غالب رہے گا، محمد ﷺ کا لایا ہوا نظام اس دنیا میں غالب رہے گا، سب سے اوپر رہے گا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو یہ نظام اسی لیے دے کر بھیجا ہے!
سو اے میرے مجا ہد بھائیو! یہ قتال جاری رہنا چاہئے، اگر اللہ کی رضا چاہتے ہو، یہ قتال جاری رہنا چاہئے، اگر کفر کا زور توڑنا چاہتے ہو، یہ جہاد کے ترانے گونجتے رہنے چاہئیں، اگر اس دین کا نفاذ چاہتے ہو، اپنے پیارے نبی ﷺ کی ناموس کی حفاظت چاہتے ہو، نبی ﷺ کے صحابہؓ کی عزت محفوظ دیکھنا چاہتے ہو، یہ قتال تھمنے نہ پائے، قدم سست نہ ہوجائیں، یہاں تک کہ یا تو ہمارے سر تنوں سے جدا کردئے جائیں، ہمارے جسموں کی بوٹیاں یوں فضا میں بکھر جائیں جیسے ہم سے پہلے ہمارے اساتذہ اورہمارے دوستوں کی بکھر گئیں، یا اللہ ہمیں فتح عطا فرمادے۔۔۔اس سے پہلے قتال تھمنا نہیں چاہیے۔۔۔!
رب کعبہ کی قسم! فتح تو محمد ﷺ کے دین ہی کو ملے گی، باقی تو میرے آقا کا دین ہی رہے گا، اسی نظام کو غالب آنا ہے! پھر اے مسلمانو! زبانوں پر مایوسی کے جملے تمہارے اسلاف کی شان نہیں، قرآن کھول کر دیکھئے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ } (آل عمران: 146 )
کتنے ہی نبی تھے جن کے ساتھ مل کر اللہ والوں نے قتال کیا،سو جو قتال کےراستے میں مشکلات آئیں، تھکا وٹیں آئیں، زخمی ہوئے،زخموں سے چور چور ہو گئے، جسموں کی بوٹیاں بوٹیاں ہو گئیں، پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔۔۔فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔۔۔تو وہ نہ کمزور ہوئے۔۔۔وَمَا ضَعُفُوا۔۔۔ اور نہ دشمن سے جنگ کر کرکے تھکاوٹ کا شکار ہوئے۔ایک سال نہیں، دو سال نہیں، دس سال نہیں،چالیس چالیس سال تک جہاد کرتے رہےاور نہ ہی دشمن کے سامنے تسلیم ہوئے۔۔۔ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ۔۔۔ اللہ تو ایسے ہی دیوانوں کو پسند فرماتا ہے، اللہ ایسے ہی جمنے والوں سے محبت کرتا ہے، اللہ ایسے ہی ڈٹا رہنے والوں سے محبت کرتا ہے، کہ ساری دنیا آجائے،چالیس ملک آجائیں، پینتالیس ملک آجائیں، سارے لشکر کفار آ جائیں، مدینے کا محاصرہ کر لیں۔۔۔لیکن وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا۔۔۔یہ نہ تھمتے ہیں، نہ رکتے ہیں، نہ سست ہوتے ہیں۔ان کے بازوؤں میں بجلیاں کوندتی رہتی ہیں، کوندتی رہتی ہیں، دشمنوں پر برستی رہتی ہیں۔۔۔۔وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ۔۔۔اللہ آسمانوں میں ان کی محبت کا اعلان فرماتا ہے!
دنیا بھر میں موجود میرے مجاہد بھائیو۔۔۔خصوصاً برصغیر میں نفاذ شریعت کے لیے جہاد کرنے والے میرے مجاہد بھائیو! تمہیں بھی اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنا ہے، یہ چودہ سو سالہ سنہری تاریخ ہے، قربانیوں کا تسلسل ہے، اسیری کا تسلسل ہے، زندان تمہیں سے بھرے گئے، قید خانے تم ہی سے آباد ہوئے، کنوؤں کے اندر تمہیں ہی قید میں ڈالا گیا، تمہارے ہی پاؤں میں زنجیریں ڈالی گئیں، تم ہی پر کوڑے برسائے گئے۔۔۔یہ تمہارے ہی اسلاف کی لمبی فہرست ہے۔ ماضی قریب میں دیکھ لیجیے۔۔۔ سید احمد شہیدؒ ہیں،شاہ اسمٰعیل شہیدؒ ہیں، اور آگے آجائیے، شیخ عبد اللہ عزامؒ ہیں، یہ شیخ اسامہ بن لادن ؒ ہیں جنھوں نے دنیا کو جہاد کی دعوت دی، دنیا کے فرعون کو للکارا، خدا بن جانے والے فرعون کو للکارا۔ یہ ملا بورجانؒ ہے، یہ ملا داد اللہؒ ہے، یہ شیخ ابو مصعب زرقاویؒ ہے، یہ مفتی نظام الدین شامزئی ؒ ہے؛ جس کے قلم نے کفر کے اعوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ یہ غازی عبد الرشید شہید ؒ ہے جس نے ایسی داستان رقم کی، ایک نئی تاریخ رقم کی، شہادت کا ایساانداز پایا کہ کفر بلک اٹھا۔ یہ شیخ انو ر العولقی ؒ ہے، جس کے بیانات نے نوجوانوں کے دلوں کو گرما دیا، انہیں شہروں کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ اللہ کے دین کے لیے قربان ہوجانے والے مجاہدین اور علماء کا خون تمہیں پکار رہا ہےکہ اے اللہ کے راستے میں اپنی جوانیاں لٹانے والو!اے امت کے غم کو اپنے دل میں سجانے والو!اسلام کے چراغ کو اپنے لہو سے جلانے والو!راستے کی طوالت کہیں تمہارے قدموں پر سستی طاری نہ کردے! نفاذ ِ شریعت کی منزل کا دور نظر آنا کہیں تمہارے اوپر مایوسی طاری نہ کر دے۔ اللہ اعلان فرما رہا ہے۔۔۔ وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ۔۔۔اللہ جم جانے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
سواے مجاہدو!شریعت یا شہادت کا جو نعرہ آپ نے لگایا ہے اب اس کے نفاذ کا وقت آپہنچا۔یقین کرلیجئے اللہ نے اپنے دین کی فتح کے فیصلے کردئیے۔ اب کلمۂ توحید کو سرحدوں میں قید نہیں کیا جاسکے گا۔اسکے مقابلے میں جو بھی قوت، جو بھی سرحد، جو بھی لکیر آئے گی، توحید کے فرزندوں کے پیروں تلے روندی جائے گی۔کفر یہ دیواریں گرا چاہتی ہیں، جاہلی تہذیب کے رنگ برنگے بتوں پر لرزہ طاری ہے۔ کفر کا یہ عالمی بت اپنی آنکھوں سے گرتا دیکھنا! توحید کے متوالوں کا جو خون اس گلشن کو سیراب کرنے میں گرا، ہر مسلک، ہر زبان،ہر خطے کے اہلِ ایمان کا خون گرا۔۔۔عربوں کا گرا، آلِ رسولؐ کا خون گرا، صحابہ ؓ کی اولاد کا خون گرا، قومِ افغان نے اپنے لہو کے دریا بہادئے، بر صغیر کے مسلمانوں کے خون نے دین کی آبیاری کی۔۔۔اور تو اور اس کلمے کو سر بلند کرنے کے لئے محمد ﷺ کی روحانی بیٹیوں نے بہادری کی وہ داستانیں رقم کیں کی حضرتِ خولہ و خنساء حضرتِ سمیہ و زنیرہ رضی اللہ عنہن کی یادیں تازہ کردیں۔ان بہنوں نے اس کلمے کی سربلندی کی خاطر ہجرت کی۔دنیا بھر سے مسلم خواتین نے محمد ﷺ کے دین کی خاطر عیش و آرام کو چھوڑ کر خطۂ خراسان کے پہاڑوں کو اپنا نشیمن بنایا۔ نفاذِ شریعت کی ا س راہ میں جامعہ حفصہ کی طالبات کے جسموں کو سفید فاسفورس سے جلادیا گیا، ماؤں کے لعل قید خانوں میں غائب کردئے گئے۔۔۔
کیا یہ سب رائیگاں چلا جائے گا۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ہر گز نہیں! اس رب کی قسم جس کی بادشاہت میں کسی کو دخل نہیں۔۔۔ یہ لہو ضرور رنگ لائے گا۔صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ یہ کاروانِ جہاد ہندوستان کی خونی لکیروں کو روندتا ہوا دہلی تک جائےگا! اور اے کافرو، جان لو!ہمارے پاس ایسے دیوانے بھی ہیں، جو دہلی سے بھی آگے بڑھ کر ڈھاکہ و برما تک اسلامی نظام کی بہاریں لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔
ہمارے ان مجاہد ساتھیوں میں سے جو اس وقت موجود ہیں، جس جس نے طبعی عمر پائی، انشاء اللہ وہ اس کارواں میں شامل ہوگا، جو پورے بر صغیر کو اسلامی بر صغیر میں تبدیل کرے گا۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجیے گا، ہم رہے یا نہ رہے، لیکن اسی نسل کے ہاتھوں اللہ رب العزت ضرور فتح عطا فرمائے گا۔
یہ قربانیوں کا چالیس سالہ تسلسل ہے، قربانیوں کی ایک طویل زنجیر ہے جو سرزمینِ خراسان سے چل کر مراکش تک پہنچ چکی ہے۔یہ پیلا خون نہیں تھا، یہ امت کے ان غیرت مند جوانوں کا خون تھا، جن کی رگ رگ میں دینی حمیت و غیرت بجلی بن کر دوڑتی تھی۔ سو یاد رہے۔۔۔ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا! یہ اللہ والوں کا خون ہے، یہ اللہ کے دوستوں کا خون ہے، یہ انقلاب لائے گا، یہ اسلام کی بہاریں لائے گا۔۔۔!
سو اے بر صغیر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو! ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، شریعت یا شہادت تک یہ جنگ جاری رہنی چاہئے۔یہ بات شرافت و مردانگی کے خلاف ہے کہ مسلمان بہنیں میدانِ ہجرت و جہاد میں ڈٹی ہوئی ہیں اور آپ جوان ہوکر مایوسی کا شکار ہونے لگے۔چھوٹے چھوٹے بچے اسلام کی فتح اور کفر کی شکست کے نعرے لگاتے ہیں اور آپ جوان ہوکر اس بحث میں پڑ گئے کہ ہمارا کیا ہوگا۔۔۔!!
محمد ﷺ کے رب کی قسم! اس عالمی کفریہ نظام کو اب ٹوٹنا ہی ہوگا، امریکہ کو میدان چھوڑنا ہی پڑے گا، کرائے کی مرتدافواج کو اب میدان سے بھاگنا ہی ہوگا۔ لفاظی، پروپیگنڈہ،جھوٹ، مکر و فریب سب ناکام ہوئے۔ ملین ٹریلین ڈالر کا بجٹ سب بے کار گیا۔ملٹی نیشنلز کی کرائے کی فوجیں بزدلی کی تاریخ پیچھے چھوڑ کر بھاگ نکلیں۔میرے رب نے سچ فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ} (الأنفال: 36)
بے شک کفار اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے روکیں سو وہ عنقریب خرچ کریں گے، لیکن خرچ کرنے کے بعد جب تخمینہ لگائیں گے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے کہ حاصل کچھ بھی نہ ہو سکا۔ ان اسلام کے پروانوں کو ہم ختم نہیں کر سکے۔ہم اسامہ بن لادن کی فکر کو ختم نہیں کر سکے۔۔۔ میرے رب نے اعلان فرمایا۔۔۔ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ۔۔۔ پھر شکست کھاجائیں گے۔
یہ اس دین کے چراغ کو مٹانے کے لئے جتنے چاہیں عالمی اتحاد بنالیں۔۔۔ہمارے رب نے اعلان کیا، {لِيَمِيزَ اللّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىَ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعاً فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ } (الأنفال: 37) ان کے اتحاد، ان کی ذہانت، یہ ان کی کامیاب پالیسی نہیں بلکہ اللہ نے انکی عقلیں ماردی ہیں۔یہ اور انکے اتحادی اسلئے جمع ہوتے ہیں تاکہ اللہ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے الگ کردے۔دنیا کو معلوم ہوجائے کہ کون کس کا اتحادی ہے۔ کون بھارت کے خلاف جہاد کرتا ہے اور کون بھارت سے معاہدوں پر راضی ہوجاتا ہے؟کون ہندو کو اپنا ازلی دشمن سمجھتا ہے اور کون مسلمانوں کے قاتلوں کی گردنوں میں ہار ڈالتا ہے؟اللہ دنیا کو ضرور دکھلا ئے گا! ہمیں معلوم ہے ہمارے خلاف زبانیں چلیں گی، ہم پر الزامات لگائے جائیں گے، مگر ہم بھی وہی نعرہ لگائیں گے جو ہمارے پیارے صحابہؓ نےلگایا۔۔۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔۔۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔۔۔ زبانیں جتنی بھی چلیں۔۔۔ہمارے خلاف جتنا بھی پروپیگنڈہ کیا جائے۔۔۔جو بھی الزام ہم پر لگایا جائے اللہ حقیقت دنیا پر ضرور کھول دے گا۔۔۔۔۔ اور تمام ناپاکوں کو ایک ساتھ جمع کرکے ایک ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنادے گا۔اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں:
{قُل لِلَّذِينَ كَفَرُواْ إِن يَنتَهُواْ يُغَفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُواْ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الأَوَّلِينِ }(الأنفال: 38 )
اے نبی! ان کافروں کو کہہ دیجئے، اگر اب بھی یہ اسلام دشمنی اور اپنے کفر سے باز آجائیں،توبہ کرلیں اور اسلام قبول کرلیں تو انکے پچھلے سارے گناہ معاف کردئے جائیں گے،اور اگر یہ باز نہ آئے تو پہلے والوں کی سنت گزر چکی۔ لہٰذا ہم بھی اپنے رب کی یہی آیت تمام عالمی کفریہ طاقتوں اور مرتدین کو سناتے ہیں، ہندوستان کے مشرکین کو سناتے ہیں کہ تم اپنی اسلام دشمنی،اور مسلمانوں پر ظلم سے باز آجاؤ۔یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ ورنہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کی مدد سے ہم اللہ کا کوڑا بن کر تم پر برسیں گے۔ اگر تم اللہ و رسولؐ کی دشمنی سے باز نہ آئےتو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے جواں مردوں کو بھیجیں گے جو نفاذِ شریعت کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگادینگے،جانوں کے سودے کردینگے،موت کو خوشی خوشی گلے لگالیا کرینگے۔اس کے نظام کو غالب کرنے کے لئے، اس کی شریعت کو نافذ کرنے کے لئے، اللہ ایسے دیوانےپیدا فرمائیں گے کہ عشقِ الٰہی انکے سینوں میں موجیں مارتا ہوگا،اپنےرب سے ملاقات کے لئے وہ ایسے تڑپتے ہونگے جیسے اے کافرو! تم شراب کے لئے تڑپتے ہو۔ عشق و جنوں کی ایسی تاریخ رقم کرینگے کہ تاریخ بھی عش عش کر اٹھے گی، اہلِ عشق،عشق کے قرینے ان سے سیکھیں گے، اہلِ وفا اپنی وفا پر ندامت محسوس کیاکرینگے۔یہ وہ دل والے ہوں گے جو اللہ کی محبت اسکےدین کی محبت اور اس کے حبیبﷺ کی محبت میں جسموں پر بارود سجا کر زبان سے نعرۂ توحید لگا کرتمہاری صفوں کو الٹ کر رکھ دینگے۔بارود سے بھری گاڑیاں لے کر اللہ کے دشمنوں کی صفوں میں اس ناز و انداز سے گھس جایا کرینگے کہ جنت کی حوریں بھی ان پر رشک کیا کریں گی۔یہ موت کے پیچھے اس طرح بھاگنے والے ہونگے جس طرح تم موت سے خوف کھا کر بھاگتے ہو۔انکے کٹ مرنے کے انداز سے تمہاری ساری تربیت،ساری ٹیکنالوجی،ساری اسٹریٹیجی ریت کا ڈھیر ثابت ہوگی۔ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الأَوَّلِينِ۔۔۔یہ اللہ کی سنت ہے اورہم اپنے رب کی سنت کو دہراتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہارے کفریہ نظام کے بت کو پاش پاش کرکے محمد ﷺ کا نظام دنیا میں نافذ کردیں!
تم دنیا میں امن کا نعرہ لگاکر دنیا کو دھوکہ دیتے ہو۔ تمہارے کفریہ نظام کے ہوتے ہوئے امن کیونکر قائم ہوسکتاہے؟یہ تو خود ہی فساد کا سرچشمہ اور شیطان کا کھلونا ہے۔
ہم ساری انسانیت کو دعوت دیتے ہیں کہ پوری تاریخ انسانیت کا مطالعہ کیجیے۔ دنیا میں جب بھی امن آیا،اللہ کی کتاب کے قائم ہونے سے آیا، اللہ کی کتاب کے نافذ ہونے سے آیا۔چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ اس میں کس نے دنیا کو امن دیا اور کس نے اس دنیا کو فساد سے بھردیا؟ جب تک دنیا کی قیادت ہمارے ہاتھ میں رہی ہم نے دنیا کو امن دیا یہاں تک کہ خلافت کے سائے میں رہنے والا ذمی کافر بھی امن سے رہتا تھا۔اے اللہ کے دشمن یہودیو!ہمارے پاس تو وہ نظام ہے کہ تمہیں یورپ سے مار کر نکالا گیا تھا لیکن یہ اسلامی خلافت ہی تھی جس نے تمہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ امن و امان بھی تمہیں عطا کیا اگرچہ تم نے پھر بھی ہمارے ساتھ غداری و خیانت کی! اے ہندستان کے مشرکو!یہ ہمارا ہی اسلامی نظام تھا جس نے تمہیں انسانیت سکھائی،جینے کا سلیقہ عطا کیا۔ ورنہ تم تو وہ ہو جو اپنی عورتوں کو زندہ چتاؤں میں جلادیا کرتے ہو۔عورت کو باپ کی وراثت میں حصہ نہیں دیتے۔ پتھروں،سانپ، بچھؤں اور جانوروں کے گوبر کو تم معبود بنالیتے ہو۔
لہٰذاہندوستان و پاکستان کے مسلمان بھی جان لیں اور کافر بھی سن لیں اس دنیا کو اگر امن مل سکتاہے،سکون مل سکتاہے تو وہ ایک ہی دین ہے، ایک ہی نظام ہے۔۔۔اس دنیا کے بادشاہ کا نظام، اس کائنات کو چلانے والے کا نظام، رحمۃ للعالمین ﷺ کا لایا ہوا نظام،ورنہ اسکے علاوہ نہ کبھی پہلے امن ہوا اور نہ اس کے بعد تم امن قائم کر پائے۔ بلکہ خلافت کی کمزوری اورتوڑنے کے صرف بیس سال کےعرصے میں تم نے دو عالمی جنگیں اس دنیا کو تحفے میں دیں! دنیا کو فساد سے تم نے بھرا، انسانیت کو ظلم کی چکی میں تم پیستے ہو، اپنے تجارتی مفادات کے لیے، اپنے شیطانی مفادات کے لیے تم دنیا کو جنگوں کا ایندھن بناتے ہو اور فوجیں کرائے پر لے لے کر ہمارے مقابلے پر بھیجتے ہو! سو ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ تم اپنے ناپاک شیطانی منصوبوں کی خاطر دنیا کو ظلم کی چکی میں نہ پیسو۔ باز آجاؤ۔۔۔ اے اللہ کے دشمنو! تم باز آجاؤ، ورنہ کان کھول کر سن لو :
؎ بڑھ رہے ہیں تمہارے قلعوں کی طرف، موت کے کچھ بگولے کچھ آتش فشاں
جرأتوں کے دھنی ہمتوں کے نشاں، کچھ ابابیل ایسے شہیدی جواں
لو تباہی کا اپنی تماشاکرو!
عمر باقی ہے جو زخم دھوتے رہو، خود پہ روتے رہو
ذلتوں کا یہ زہراب پیتے رہو، روز مرتے رہو روز جیتے رہو
ہم پر روئیں ہماری ہی مائیں سدا، ہم نے تم کو اگر ____خوں رُلایا نہیں!
روند کر ا ہلِ ایمان کی بستیاں، کیسی جنت بسانے کے خوابوں میں ہو ؟؟؟
یہ تو ممکن نہیں عیش سے تم رہو۔۔۔
سن لو۔۔۔!
یہ تو ممکن نہیں عیش سے تم رہو، اور ملّت ہماری عذابوں میں ہو!
منتظر اب رہو!
منتظر اب رہو!
{قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ } (التوبة: 52 )
واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین